ہر اتوار، چند خط، اُن میں سے چنے ہوئے جنہیں اُن کے لکھنے والوں نے دنیا کے پڑھنے کے لیے کھلا چھوڑا۔
…
اس اتوار کے لیے ابھی کوئی خط نہیں۔