ملتان کی گرمیوں میں تم ہر سال مجھے وہ پھل بھیجتے تھے جس کے لیے یہ شہر مشہور ہے، اور ہم چھت پر چارپائی ڈال کر تارے گنتے تھے۔
حسن بھائی، اس سال کسی نے پیٹی نہیں بھیجی۔
اس خط کا باقی حصہ مُہر بند ہے۔
دراز میں دیکھا جا رہا ہے…
ایک مُہر بند خط حسن کا انتظار کر رہا ہے۔
ملتان کی گرمیوں میں تم ہر سال مجھے وہ پھل بھیجتے تھے جس کے لیے یہ شہر مشہور ہے، اور ہم چھت پر چارپائی ڈال کر تارے گنتے تھے۔
حسن بھائی، اس سال کسی نے پیٹی نہیں بھیجی۔
اس خط کا باقی حصہ مُہر بند ہے۔