إلى
فاطمہ
Rawalpindi · 2024
وداعرسالة علنية
تمہارے جانے سے ایک رات پہلے ہم دیر تک چھت پر بیٹھے رہے، اور تم نے اپنے سارے گملے ایک ایک کر کے مجھے سونپ دیے۔
فاطمہ، تمہارے سارے پودے زندہ ہیں، سوائے اس تلسی کے جس کا تم سب سے زیادہ خیال رکھتی تھیں۔
شاید اسے بھی تمہاری کمی محسوس ہوئی۔ رخصت ہونا بھی عجیب چیز ہے۔ ائیرپورٹ پر ہم نے ہنس کر ہاتھ ہلائے، جیسے تم اگلے ہفتے لوٹ آؤ گی، اور گاڑی میں بیٹھ کر میں سارے راستے روتی رہی۔ میں نے تمہیں روکا نہیں، کیونکہ اچھے دوست روکا نہیں کرتے۔ یہ خط بس اس لیے ہے کہ تمہیں معلوم ہو: تمہاری کرسی چھت پر اب بھی وہیں رکھی ہے، اور شام کو پانی دیتے ہوئے میں تمہارے حصے کی باتیں بھی پودوں سے کر لیتی ہوں۔ خدا حافظ، میری جان۔ وہاں بھی کسی کھڑکی میں کچھ اگانا۔