إلى
علی
Islamabad · 2017
حبرسالة علنية
یونیورسٹی کی لائبریری میں تم ہمیشہ کھڑکی والی میز پر بیٹھتے تھے، اور ہر کتاب میں ایک سوکھا پتا رکھ کر واپس کرتے تھے۔
علی، مجھے ہر کتاب میں تمہارا رکھا ہوا پتا ملتا تھا، اور میں نے کبھی کسی کو نہیں بتایا کہ میں وہی کتابیں جان بوجھ کر لیتی تھی۔
میرے پاس اب ان پتوں کا ایک پورا ڈبہ ہے: چنار کے، املتاس کے، اور ایک پیپل کا جو ٹوٹ کر آدھا رہ گیا ہے۔ میں نے کبھی ان پر کچھ لکھا نہیں، کبھی تم سے کچھ کہا نہیں۔ محبت کبھی کبھی بس یہی ہوتی ہے: کسی کی چھوڑی ہوئی نشانیاں چپکے سے جمع کرتے رہنا۔ اگر تم یہ پڑھو تو جان لو کہ تمہارے پتے کہیں گرے نہیں۔ کسی نے انہیں سنبھال کر رکھا۔