إلى
سارہ
Faisalabad · 2020
امتنانرسالة علنية
ہسپتال کی راہداری میں تم نے بغیر کچھ پوچھے میرے ابو کے لیے خون دیا، اور شکریہ سنے بغیر چلی گئیں۔
سارہ، رجسٹر پر صرف تمہارا پہلا نام لکھا تھا، اور میں نے اسے اتنی بار پڑھا کہ وہ مجھے زبانی یاد ہو گیا۔
ابو اب ٹھیک ہیں۔ وہ ہر صبح سیر کو جاتے ہیں اور گلی کے بچوں میں ٹافیاں بانٹتے ہیں، اور انہیں یاد نہیں رہتا کہ ان کی رگوں میں ایک اجنبی لڑکی کی مہربانی دوڑ رہی ہے۔ میں انہیں بتاتی ہوں، وہ بھول جاتے ہیں۔ میں نہیں بھولتی۔ اس سال سے میں بھی ہر چھ مہینے بعد خون دیتی ہوں، اور ہر بار رجسٹر پر اپنا نام لکھتے ہوئے تمہارا نام سوچتی ہوں۔